امید جو پھر سے مدھم ہے۔۔۔۔
Topic: مضامین| 12 Comments »|
آج سے دس سال پہلے کی بات ہے جب میٹرک پاس کیا اور والد صاحب سے کالج میں داخلہ لینے کی اجازت طلب کی تو ان کی جانب سے حکم صادر ہوا کہ اب گھر بیٹھیےاور گھر داری سیکھیے ۔ یہ الفاظ گو بر خلاف توقع نہیں تھے مگر پھر بھی میرے اوسان خطا کرنے کے لیے کافی تھے۔ تمام دنیا لمحہ بھر کو تو تاریک ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ‘ کچھ کرنے، کچھ بننے’ کے ان گنت خواب جو میں نے بڑے اہتمام سے اپنے دل کے اندر سجا سجا کر رکھے تھے راکھ کا ڈھیر ہوتے دکھائی دئیے۔
آہستہ آہستہ ہمتیں مجتمع کیں اور دل میں ٹھان لیا کہ اپنی تعلیم ،جو کہ ہمیشہ سے مجھے عزیز از جان رہی ہے، چاہے کچھ بھی ہو ہر حال میں جاری رکھوں گی۔ دو چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بے طرح نوازا ہے۔۔ ایک تو خواب دیکھنے کی صلاحیت اور دوسرا ان کو حاصل کرنے کےلیے ہر قسم کے حالات سے مقابلہ کرنے کی ہمت۔ سو انہی کے بل بوتے سیکڑوں بار اپنا کیس والد صاحب کی عدالت میں پیش کیا۔ طرح طرح کے دلائل سے اپنا تعلیم حاصل کرنے کا حق ثابت کرنے کی کوشش کی مگر ایک جملہ ہر دلیل ہر سفارش پر بھاری تھا۔۔۔ “ہمارے خاندان ہمارے علاقے کی روایات لڑکیوں کی تعلیم کی اجازت نہیں دیتیں”۔۔۔ روایات ۔۔۔۔ ویسے مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا یہ روایات آتی کہاں سے ہیں کیسے پیدا ہوتی ہیں کیسے اتنی مضبوط ہو جاتی ہیں کہ ہر انسانی جذبہ ان کے سامنے ریت کا ڈھیر ثابت ہوتا ہے۔ انسان کے خواب اس کے حقوق سب بے معنی ہو جاتے ہیں اور یہ سب سے بڑی حقیقت بن کے ایک ناقابل تسخیر دیوار کی شکل اختیار کر لیتیں ہیں۔ ایک ایسی دیوار کہ جو بھی اس سے ٹکرانے کی جرت کرے ریزہ ریزہ بن کے بکھرنا اس کی قسمت ٹھرتی ہے۔۔۔اور یہی جرت میں بھی کر بیٹھی تھی۔ خیر میں بہت خوش قسمت رہی ہوں کہ میرے لیے روایتوں کی یہی روکاوٹ ایک نعمت ہی ثابت ہوئی کیونکہ اسی سے میں نے حرکت، سفر، حیات اور مقصد حیات کے مفہوم سمجھے ہیں۔۔ وقت نے کروٹ لی، کچھ خراج بھی لیے مگر میں بالاخر حصول تعلیم کا حق منوانے میں بفضل خدا تعالیٰ کامیاب رہی۔۔ اور اپنے اس سفر میں بسا اوقات ایسی کامیا بیاں بھی ملیں کہ میرے والدین نے میرے خاندان نے مجھ پر فخر کیا ۔۔۔ وہ سفر ہی کیا جو آرام و سکون سے طے ہو جائے۔ جنڈ ضلع اٹک پنجاب کی ایک چھوٹی سی تحصیل ہے یہ خوشحال خان خٹک کے مشہور پل جو کہ پنجاپ اور این- ڈپلیو- ایف- پی- کی سرحدوں کو آپس میں ملاتا ہے ،سے چند کلومیٹر دور واقعہ ہے۔ |
|
__________________
زھراء علوی |
Recently at زندگی شرط ہے۔۔۔۔۔۔
امید جو پھر سے مدھم ہے۔۔۔۔
Topic: مضامین|
ٹیگ ٹیگ
Topic: متفرقات|
شام کی گفتگو ،ہو تم شائد
Topic: غرلیات|
شام
Topic: آزاد نظمیں|
Links in Technorati
Add to del.icio.us
Subscribe to RSS